بنگلورو۔30؍ اگست(ایس او نیوز) شہر میں صفائی کارکنوں کی کم تعداد کے متعلق آج برہت بنگلور مہانگر پالیکے کی ماہانہ میٹنگ میں معاملہ اٹھایا گیا اور شہر میں بڑھتی ہوئی آبادی کے باوجود ہر سات سو افراد کیلئے ایک صفائی کارکن کی موجودگی کو تشویشناک قرار دیاگیا۔ کونسل میٹنگ میں اپوزیشن لیڈر پدمانابھا ریڈی نے یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہاکہ 7 ؍ ستمبر سے شہر میں خاکروبوں کی تعداد گھٹ جائے گی اور ان کا اوسط سات سو افراد کیلئے ایک کارکن تک محدود ہوجائے گا۔
ریاستی حکومت نے نئے ضوابط لاگو کرکے دس ہزار صفائی کارکنوں کے تقرر کا فیصلہ کیا ہے،جبکہ شہر کو 20ہزار صفائی کارکنوں کی فوری ضرورت ہے۔شہر تیزی سے پھیلتا جارہا ہے ، آبادی بھی اتنی ہی بڑھ رہی ہے،لیکن خاکروبوں کو بڑھانے پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔شہر میں دن بدن متعدی امراض کے پھیلاؤ کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس سے نمٹنے کیلئے بھی کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ بی بی ایم پی کے ہیلتھ آفیسر نے اس مسئلہ پر جواب دیتے ہوئے کہاکہ ڈینگو ، چکون گنیا ، سوائن فلو وغیرہ کی بیماریوں پر نظر رکھنے کیلئے بی بی ایم پی نے ایک نیا سافٹ ویر وضع کیا ہے۔ اس سافٹ ویر کے زیر جو اعداد و شمار ملے ہیں ان کے مطابق اب تک شہر میں چار ہزار افراد ڈینگو کا شکار ہوئے ہیں۔ اس پر پدمانابھا ریڈی نے افسر کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہاکہ یہ جھوٹی تفصیلات پیش کرکے کونسل کو گمراہ نہ کیا جائے۔ صرف ایک منی پال اسپتال میں ڈینگو کے چار سو مریض ہیں، شہر بھر میں تقریباً پانچ سو اسپتال ہیں اس حساب سے اگر جائزہ لیا جائے تو ڈینگوکا شکار مریضوں کا شمار ہزاروں میں ہوگا۔ اس موقع پر شہر میں گندگی کی نکاسی کے نظام کو بھی سدھارنے پر زور دیا گیا۔